ملپے24/نومبر (ایس او نیوز) سیاحتی دورے پر نکلے ہوئے کیرالہ کے چار سیاح جب دوپہر کو ملپے کے قریب سینٹ جزیرے پر پہنچے تو قاعدے کے مطابق شام کو انہیں آخری کشتی سے واپس لوٹ آنا چاہیے تھا، مگر وقت پر وہ کشتی کے پاس نہیں پہنچ سکے جس کے بعد پوری رات انہیں جزیرے پر ہی گزارنی پڑی۔
بتایا جاتا ہے کہ جسٹن (34سال)، شیجا(33سال)، جوش (28سال) اور ہریش (17سال) سیاحتی دورے پر نکلے تھے۔ گوا سے واپسی پر 23 نومبر دوپہر کے وقت وہ لوگ ملپے پہنچے اور وہاں سے سینٹ میری جانے والی کشتی پر سوار ہوگئے۔ سینٹ میری جزیرے پر سیاحت کے لئے جانے والوں پر یہ پابندی ہے کہ وہ ہر حال میں شام تک واپس لوٹ آئیں اور کوئی بھی وہاں شب گزاری نہ کرے۔
معلوم ہوا ہے کہ یہ چارسیاحوں نے سینٹ میری پر سیاحت کے بعد اس کے قریب واقع ایک اور چھوٹے سے جزیرے پر پہنچ گئے۔ مگر تھوڑی ہی دیر میں سمندر میں جوار کی وجہ سے پانی کی سطح زیادہ بڑھ گئی اوروہ لوگ دوسرے جزیرے سے سینٹ میری پر نہیں پہنچ سکے۔ شام کے 6.45بجے سینٹ میری پر موجود تمام سیاحوں کو واپس لانے والی آخری کشتی وہاں پہنچی تو یہ چار سیاح وہاں موجود نہیں تھے۔ بالآخر ان کے بغیر ہی کشتی واپس لوٹ گئی۔ ادھر پانی کی سطح کم ہوئی تو یہ چاروں جزیرے پر واپس لوٹ آئے لیکن ملپے بندرگاہ تک واپس لوٹنے کا کوئی سہارا ان کے پاس نہیں تھااور کسی سے بھی طرح سے رابطہ قائم کرنا ممکن نہیں تھا۔ اس طرح پوری رات جزیرے پر ہی گزارنے پر یہ لوگ مجبور ہوگئے۔
24نومبر کی صبح 7.30بجے جب پہلی کشتی سینٹ میری جزیرے پر پہنچی تو یہ لوگ وہا ں انتظار کرتے ہوئے پائے گئے۔ پھر ان چاروں کوغیر قانونی طور پر سینٹ میری جزیرے پر رات میں قیام کرنے کی وجہ سے ملپے پولیس کے حوالے کیا گیا۔ پولیس نے ان کے شناختی کاغذات اور ٹکٹ وغیرہ کی جانچ کرنے کے بعد انہیں بحفاظت کیرالہ کے سفر پر واپس روانہ کردیا۔